Go to content Go to menu
 


Short History Of BIBI FATIMA ZEHRA sa

حضرت فاطمہ زہرا س کے دفن سے متعلق ایک شبھہ اور اس کا جواب


اہل سنت برادران کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی رات کو تدفین اس لیے ہوئی کہ انہوں نے خود اسماء بنت عمیس کو وصیت کی تھی تاکہ کوئی نامحرم ان کے جنازے کو بھی نہ دیکھ سکے نہ یہ کہ ابوبکر سے ناراض تھیں ۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر کا رات کو دفن ہونا اور خلیفہ وقت کو خبر تک نہ کرنا ایک راز ہےجس میں بہت سے سبق چھپے ہوئے ہیں لیکن وہ کونسی بات ہے جس کی وجہ سے حضرت فاطمہ زہرا نے اس قسم کے جملے کے ساتھ اپنی وصیت کو ختم کیا ؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہوسکتی ہے کہ انہوں نے اپنے دشمنوں سے اظہار ناراضگی کے لیے ایسی وصیت کی ؟ دراصل یہ وصیت مورخین اور مسلمانوں کے سامنے بہت سے سوال کا سبب بنی کہ کیوںرات کو دفن کی گئیں ؟ کیوں حضرت علی علیہ السلام نے عمر اور ابوبکر کو بتائے بغیر نماز جنازہ پڑھا دیا ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا جو جانشین پیغمبر تھا (جس طرح کہ خود دعوی کرتے ہیں )کیا حضرت زہرا کے جنازے پر نماز پڑھنے کے قابل نہیں تھا ؟

جی ہاں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے ایسی وصیت کی تاکہ جنہوں نے ان پر ظلم کیے ہیں اور ان کا حق چھینا ہے وہ اس جنازے میں شریک نہ ہوسکیں ۔ تاکہ اس عمل کے ذریعے مسلمانوں پر واضح کردیں کہ پیغمبر کے بعد ان کی بیٹی کے ساتھ کیا ظلم ہوا ۔

اب ذرا چند ایک روایات ذکر کرتے ہیں جن میں اہل سنت کے بزرگان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ رات کو دفن ہونے کی وجہ کیا تھی۔

صحیح بخاری کا مصنف لکھتا ہے : وَعَاشَتْ بَعْدَ النبی صلى الله علیه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فلما تُوُفِّیَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِیٌّ لَیْلًا ولم یُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى علیها فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد چھ مہینے زندہ رہیں ۔ جب دنیا سے آنکھیں بند کیں تو ان کے شوہر علی علیہ السلام نے انہیں رات کو دفن کردیا اور ابوبکر کو خبر نہ کی .

البخاری الجعفی، محمد بن إسماعیل أبو عبدالله (متوفای256هـ)، صحیح البخاری، ج 4، ص 1549، ح3998، كتاب المغازی، باب غزوة خیبر، تحقیق د. مصطفى دیب البغا، ناشر: دار ابن كثیر، الیمامة - بیروت، الطبعة: الثالثة،1407-

ابن قتیبہ دینوری مختلف الحدیث کی تاویل میں کہتا ہے : وقد طالبت فاطمة رضی الله عنها أبا بكر رضی الله عنه بمیراث أبیها رسول الله صلى الله علیه وسلم فلما لم یعطها إیاه حلفت لا تكلمه أبدا وأوصت أن تدفن لیلا لئلا یحضرها فدفنت لیلا.

فاطمہ نے ابوبکر سے اپنے والد کی میراث کا مطالبہ کیا ابوبکر نے قبول نہ کیا انہوں نے بھی قسم کھائی کہ اس (ابوبکر)کے ساتھ بات نہ کرے اور وصیت کی کہ انہیں رات کو دفن کیا جائے تاکہ وہ (ابوبکر )شامل نہ ہو

الدینوری، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتیبة (متوفای276هـ)، تأویل مختلف الحدیث، ج 1، ص 300، تحقیق: محمد زهری النجار، ناشر: دار الجیل، بیروت، ۱۳۹۳ھجری

عبدالرزاق صنعانی لکھتا ہے :

عن بن جریج وعمرو بن دینار أن حسن بن محمد أخبره أن فاطمة بنت النبی صلى الله علیه وسلم دفنت باللیل قال فرَّ بِهَا علی من أبی بكر أن یصلی علیها كان بینهما شیء

جریح سے اور عمرو بن دینار نے حسن بن محمد سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر کی بیٹی فاطمہ رات کو دفن ہوئیں تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھ سکے کیونکہ ان کے درمیان اختلاف ہوگیا تھا

پھر آگے لکھتا ہے :

عبدالرزاق نے عیینہ نے عمرو بن دینار سے ،اس نے حسن بن ،محمد نے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے لیکن وہاں پر آگے ہے کہ انہوں نے خود یہ وصیت کی تھی

الصنعانی، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفای211هـ)، المصنف، ج 3، ص 521، حدیث شماره 6554 و حدیث شماره: 6555، تحقیق حبیب الرحمن الأعظمی، ناشرالمكتب الإسلامی - بیروت، الطبعة: الثانیة، ۱۴۰۳ھجری

ابن بطال صحیح بخاری کی شرح میں لکھتا ہے :

أجاز أكثر العلماء الدفن باللیل... ودفن علىُّ بن أبى طالب زوجته فاطمة لیلاً، فَرَّ بِهَا من أبى بكر أن یصلى علیها، كان بینهما شىء.

اکثر علماء نے رات کو جنازہ کی تدفین کی تصدیق کی ہے علی بن ابوطالب نے فاطمہ کو رات کو دفن کیا تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھ سکیں کیونکہ ان دونوں کے درمیان اختلاف ہوا تھا

إبن بطال البكری القرطبی، أبو الحسن علی بن خلف بن عبد الملك (متوفای449هـ)، شرح صحیح البخاری، ج 3، ص 325، تحقیق: أبو تمیم یاسر بن إبراهیم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودیة / الریاض، الطبعة: الثانیة ۱۴۲۳ھجری

ابن ابی الحدید لکھتا ہے : وظهرت الشكیة، واشتدت الموجدة، وقد بلغ ذلك من فاطمة ( علیها السلام ) أنها أوصت أن لا یصلی علیها أبوبكر.

فاطمہ کی غاصبین سے ناراضگی اس حد تک تھی کہ انہوں نے وصیت فرمائی کہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھے ۔

دوسری جگہ پر لکھتا ہے

وأما إخفاء القبر، وكتمان الموت، وعدم الصلاة، وكل ما ذكره المرتضى فیه، فهو الذی یظهر ویقوی عندی، لأن الروایات به أكثر وأصح من غیرها، وكذلك القول فی موجدتها وغضبها

حضرت فاطمہ کی شہادت کی خبر اور ان کے دفن کی جگہ کو چھپانا اور ابوبکر اور عمر کا ان پر نماز نہ پڑھنا جو کچھ اس بارے میں سید مرتضی نے کہا ہے میں اس کی تایید کرتا ہوں کیونکہ روایات اس بارے میں سچی ہیں اور حضرت فاطمہ کی ناراضگی ان دو بزرگوں سے زیادہ قوی اور محکم ہے اور اس بات کا زیادہ اعتبار ہے کہ وہ ناراض تھیں

شرح نهج البلاغة، ج 16، ص 170


شیخ صدوق لکھتے ہیں : عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی حَمْزَةَ عَنْ أَبِیهِ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام لِأَیِّ عِلَّةٍ دُفِنَتْ فَاطِمَةُ (علیها السلام) بِاللَّیْلِ وَ لَمْ تُدْفَنْ بِالنَّهَارِ قَالَ لِأَنَّهَا أَوْصَتْ أَنْ لا یُصَلِّیَ عَلَیْهَا رِجَالٌ [الرَّجُلانِ‏].

علی بن حمزہ نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا :کیونکہ حضرت فاطمہ رات کو دفن ہوئیں ؟ امام نے فرمایا : حضرت فاطمہ نے وصیت فرمائی تھی کہ رات کو دفن ہوں تاکہ ابوبکر اور عمر ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکیں

الصدوق، أبو جعفر محمد بن علی بن الحسین (متوفای381هـ)، علل الشرایع، ج‏1، ص185، تحقیق: تقدیم: السید محمد صادق بحر العلوم، ناشر: منشورات المكتبة الحیدریة ومطبعتها - النجف الأشرف،

البتہ اوپر والی اہل سنت کے بزرگان کی روایات اتنی حد تک بیان ہونا بھی معجزہ ہے ورنہ ہر وہ چیز جو ان کے بزرگوں کے خلاف ہو بیان نہیں کرتے اور دوسری بات یہ کہ اشارے میں بات کرنا دلالت کرتا ہے کہ واقعا حضرت فاطمہ ان پر غضب ناک تھیں اور صحیح بخاری کی روایت کے مطابق

فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّی، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِی

(صحیح بخاری ،جلد۵، صفحہ ۲۱، باب مناقب قرابۃ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ناشر ،دارطوق النجاۃ ) فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے انہیں غضب ناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا
اور یقینا رسول اکرم کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے